عصمت دار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - باعصمت ہونا، پاک دامن، عفیفہ۔ "ایکاایکی نامحرم سے بات کرنا عصمت داروں کو نہ چاہیے۔"      ( ١٨٨٩ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١٩٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عصمت' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' لگانے سے 'عصمت دار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٨٩ء کو "سیر کہسار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باعصمت ہونا، پاک دامن، عفیفہ۔ "ایکاایکی نامحرم سے بات کرنا عصمت داروں کو نہ چاہیے۔"      ( ١٨٨٩ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١٩٤ )